اب تو یہ جوروں کا غلام بن جائے گا ! اگر شادی کے ایسے مذاق خواتین کریں تو۔۔۔

آپ نے بھی غالباً مردوں کو دوسری شادی سے متعلق مذاق کرتے سنا ہو گا۔ کئی مرد حضرات تو گھر کے کام کاج اور بیوی کے شوہر سے ڈرنے جیسے موضوعات پر بھی کھل کر لطیفے سناتے ہیں۔

اب فرض کیجیے کہ دوسری شادی کا مذاق کسی خاتون نے کیا ہو، تو ایک سیکنڈ کے لیے تصور کیجیے کہ آپ کا ردِعمل کیا ہو گا؟

شادی ایک خوبصورت لمحہ ہے جس کے بارے میں ہر شخص خواہش رکھتا ہے۔ اور جب شادی ہوجاتی ہے تو شادی سے پہلے کا وقت لوگوں کو یاد آتا ہے، خیر ایسا لوگ مذاق میں کہتے ہیں۔

پاکستان میں شادی شدہ افراد کو بیچارہ تصور کیا جاتا ہے اور اکثر جب دوستوں کی محفل لگتی ہے اور کچھ اس طرح کے جملے سننے کو ملتے ہیں جیسے ،ہائے! اس کی شادی ہو رہی ہے۔ یہ بیچارہ تو گیا کام سے!’

بھائی جان! اب آپ کی شادی ہو رہی ہے اور اب آپ کی آزادی کے دن ختم ہورہے ہیں وغیرہ۔

یہ وہ چند ایسے جملے ہیں جو اکثر مرد حضرات مذاق کرتے ہوئے یا تو خود ادا کرتے نظر آتے ہیں یا ان کے دوست شادی کی خبر سن کر بےساختہ کہہ دیتے ہیں۔

صحافی اور تجزیہ کار صباحت ذکریا نے شادی اور بیویوں سے متعلق معاشرے میں عام کیے جانے والے مذاق پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘عام طور پر مذاق اپنے سے برابر یا طاقتور پر کیا جاتا ہے تاکہ آپ کی بات بھی ان تک پہنچ جائے اور اس پر وہ برا بھی نہ مانیں۔ لیکن ہمارے معاشرے میں تو پہلے ہی مردوں کو خواتین پر فوقیت حاصل ہے تو ایسے میں اس طرح کامذاق کر کے وہ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں یا اس سے کیا مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

صباحت کا کہنا ہے کہ ایک جانب تو ایسے لطیفوں کا سچائی سے کوئی واستہ نہیں ہے کیونکہ شاید ہی آپ کو کوئی ایسا مرد ملے جو اپنی بیوی سے ڈرتا ہو اور اس کی بیوی اس سے گھر کے سارے کام کاج کرواتی ہو، دوسری طرف ہم نے دیکھا ہے کہ ایسے موقعوں پر اور ایسے مذاق کا خواتین جواب نہیں دے پاتی کیونکہ اگر وہ اس کا جواب دیں تو لوگ انھیں برا سمجھتے ہیں۔

صباحت ذکریا کا کہنا ہے کہ اکثر خواتین اس طرح کے مذاق کے موقع پر خود بھی ہنستی نظر آتی ہیں کیونکہ انھیں علم ہے کہ اگر وہ اس پر برہمی کا اظہار کریں گی تو لوگ کہیں گے کہ دیکھا مذاق سچ ثابت ہو گیا۔ لیکن خواتین کو چاہیے کہ ایسے مذاق میں ہر گز شامل نہ ہوں بلکہ مردوں کو ان کے مذاق کا جواب اسی قسم کے مذاق سے دیں جو مردوں پر ہو۔

صباحت کا کہنا ہے ایسا تب ہی ممکن ہو گا جب ہمارے پاس مزاح لکھنے والی زیادہ خواتین ہوں جو اس قسم کے لطیفوں کا جواب لطیفوں سے دے سکیں۔

سول سسٹرز میں بھی اس بارے میں بات کرتے ہوئے بہت سی خواتین کا یہی کہنا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جب مرد اس قسم کا مذاق کریں تو خواتین بھی جواب اسی قسم کے مذاق سے دیں اور بتائیں کہ کیسے شادی کی وجہ سے ان کی آزادی چلی گئی اور کیسے یہ ان کے لیے بھی اتنی ہی زحمت ہے جتنی مردوں کے لیے ہے۔

بشکریہ (بی بی سی نیوز)۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

BFT News © 2022 Frontier Theme