سینیٹ اجلاس میں اولمپک گیمز میں خراب کارکردگی زیر غور لانے کی تحریک ایوان میں پیش

[ad_1]

اولمپک گیمز میں خراب کارکردگی زیر غور لانے کی تحریک ایوان میں پیش، تحریک سینیٹر محسن لغاری نے ایوان میں پیش کی۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ اجلاس میں سینیٹر محسن لغاری نے کہا کہ  پاکستان اولمپک گیمز میں بہتر کارکردگی دکھانے میں ناکام رہا ۔

ان کا کہنا تھا کہ پی او اے اتنے سالوں سے کیا کر رہی ہے ، پاکستان اسپورٹس بورڈ نے اپنے فنڈز خرچ کیوں نہیں کئے ، پی ایس بی کے معاملات کی بھی انکوائری ہونی چاہئیے۔

ان کا کہنا تھا کہ طلحہ طالب واپڈا میں مستقل نوکری مانگتا تھا ، ارشد ندیم غریب باپ کا بیٹا تھا، اس معاملے کو قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے، پی او اے میں اپنے لوگوں کو بیٹھایا گیا ہے۔

سینیٹ اجلاس میں   سینیٹرمشتاق احمد کا کہنا تھا کہ ا سپورٹس مین وزیراعظم کے آنے سے کھیلوں مین بہتری کی امید تھی، پاکستان کے حالات کی طرح کھیلوں کے بھی وہی حالات ہو گئے ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ قوم مایوسی کا شکار ہے، لوگ سوشل میڈیا پر غصہ اتاررہے ہیں، مسلسل دوسرے اولمپک مقابلوں میں ہاکی ٹیم کوالیفائی نہیں کر سکی، ہاکی کا کرکٹ اور اسکواش کا برا حال ہے ۔

سینیٹر محسن عزیز کا سینیٹ اجلاس میں  کہنا تھا  کہ ا سپورٹس بورڈ کا اسپیشل آڈٹ کرایا جائے،ا سپورٹس بورڈ کو ایک ارب روپے کا گرانٹ جاری ہوا جس میں سے چوالیس کروڑ خرچ نہ  ہو سکے، بتایا جائے کہ یہ فنڈز کیوں واپس ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں تو اولمپک گیمز میں ہماری کارکردگی پر شرم محسوس ہوتی ہے،دس ایتھلیٹ اولمپیک گیمز میں تھے ان کے ساتھ بارہ آفیشل وہاں گئے تھے۔

سینیٹر محسن عزیز کا کہنا تھا کہ  ارشد ندیم نے سہولیات نہ ہونے کے باوجود بہترین کارکردگی دکھائی،

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس ایسویسی ایشن کے ذمہ دار سے استعفی مانگا ہے، ان کہ  اخلاقی ذمےداری تھی کہ وہ خود مستعفی ہوجاتے ۔

سینیٹر محسن عزیز کا کہنا تھا کہ  اس معاملے کو متعلقہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے۔

سینیٹر مشتاق احمد کاکہنا تھا کہ  22کروڑ آبادی میں سے صرف 10ایتھلیٹس کو بھجوایا گیا ، طلحہ طالب غذائیت اور ٹریننگ کی کمی کا شکار رہا ہے ، طلحہ طالب کیساتھ کوئی کوچ نہیں گیا۔

 اس موقع پر  سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا  تھا کہ  ٹوکیو اولمپکس کی ناکامی کا ذمہ دار کون ہے،  پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن حکومت سے اگر فنڈ لیتی ہے تو آڈٹ کروایا جائے، پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل کرنل آصف زمان سے بھی نجات دلوائی جائے،  پی او اے کے صدر سے چھٹکارا دلایا جائے۔

مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ کھلاڑی ہمارے سفیر ہیں، انہیں عزت دی جائے ۔

 ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اسپورٹس بورڈ اور پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے درمیان سخت اختلافات ہیں، پاکستان اسپورٹس بورڈ نے 44کروڑ فنڈز خرچ نہ کرکے قومی جرم کیا ہے، ایسے لوگوں کا محاسبہ ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اولمپک رینکنگ میں ہی موجود نہیں، اس کا کون زمہ دار ہے، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سربراہ کو عہدے سے ہٹایاجائے۔

[ad_2]

Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

BFT News © 2022 Frontier Theme