سحری میں چائے پیناخطرناک یا مفید؟

[ad_1]

رمضان المبارک کے مہینے میں کھانے کے ساتھ ساتھ پینے کی ایشیا کا استعمال بھی زیادہ ہوجاتا ہے،روزے دار سحری میں زیادہ سےزیادہ پانی یا اس سے بنی ایشیا  کااستعمال کرتے ہیں۔

سحری کے وقت چائے اور کافی کا استعمال صحت کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے کیونکہ اس سے جسم سے پانی کا اخراج زیادہ ہوتا ہے اورڈیہائیڈریشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین غذا کی تحقیق کے مطابق سحری کے دوران کم نمک، مرچ مصالے، والی ٹھنڈی تاثیر والی غذاؤں سمیت غذائیت سے بھرپور دہی یا دہی سے بنی لسی کا استعمال کرنا چاہیے، اس کے استعمال سے جسم میں پانی کی مقدار بھی محفوظ رہتی ہے۔

افطار میں پھلوں اور سبزیوں کا استعمال نہ صرف صحت کے لیے اچھا ہے بلکہ یہ جسم کو ہائیڈریٹ بھی رکھتا ہے، پالک، گاجر ، لوکی، تورئی اور پودینہ، رمضان کے دوران خود کو پیاس محفوظ رکھنے کیلئے بہترین ہے۔

مشروبات میں کم از کم آدھا چائے کا چمچ چیا کے بیج یا تخم بالنگا ضرور شامل  کر لیں جیسے کہ دہی سے بنی لسی، لیموں پانی، املی آلو بخارے کا شربت اور پودینے اور املی کا شربت وغیرہ، تخم بالنگا کے استعمال سے بھوک بھی کم لگتی ہے اور  تازگی کا احساس بھی برقرار رہتا ہے۔

موسم گرما میں روزے داروں کو پیاس کی شدت زیادہ محسوس ہوتی ہےاگر سارا دن بھوک او ر پیاس سے بچنا چاہتے ہیں تو سحری کے دوران اور افطار کے بعد چائے اور کافی کے استعمال کے  سے پرہیز کریں۔

[ad_2]

Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

BFT News © 2022 Frontier Theme