سحر و افطار میں کیا کھانا چاہیے؟ ماہرین نے بتا دیا

[ad_1]

دنیا بھر میں رمضان کا مہینہ بہت اہتمام کے ساتھ منایا جاتا ہے اور ہم اس با برکت مہینے میں دنیا کی ہر نعمت کھاتے ہیں جہاں ہمیں یہ پتہ نہیں چلتا کہ کیا ہمارے لئے مفید ہے اور کونسی غزا ہماری صحت کو نقصان دے سکتی ہے۔

رمضان المبارک میں ہمیں کون سی غزا کو اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہیے ، ہر کسی کے ذہن میں یہ ہی سوال ہوتا ہے ،رمضان میں کھانے پینے کی اشیاء کا چناؤ مشکل ہو جاتا ہے اور لوگ زیادہ تر تیل میں فرائی کی ہوئی غذاؤں کا انتخاب کرتے ہیں جو کسی طور بھی درست نہیں ہے کیونکہ زیادہ تلی ہوئی غزا سے بہت سے لوگوں کو معدے کی شکایات بھی ہوجاتی ہیں۔

ماہ صیام میں صرف دو وقت کھانے پینے سے انسانی جسم میں مثبت تبدیلیاں آتی ہیں اور صحت پر اچھے اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں، تاہم ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ اس وقت ہی ممکن ہے جب سحر و افطار میں متوازن خوراک لی جائے۔

اس حوالے سے ماہر صحت ڈاکٹر فرزین کا کہنا ہے کہ سحرو افطاری میں دال چاول، سبزی، گوشت، سلاد اور جو کی روٹی کھائیں اور روزے میں پیاس لگتی ہے تو چائے اور کافی سے پرہیز کریں ،تربوز، خربوزہ اور الائچی کے  پانی کو اپنی روٹین میں شامل کر لیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سحری میں دہی کا استعمال بھی معدے کو فائدہ پہنچاتا ہے اور گرمی کے روزوں میں اس کا استعمال صحت کے لئے ضروری ہے۔

سحری میں گھی میں ڈوبے ہوئے پراٹھے  کھانے سے بہتر ہے کہ چکی کے آٹے کی روٹی کھائی جائے اس سے جلد بھوک کا احساس بھی نہیں ہوتا اور وزن بڑھنے کا ڈر بھی نہیں رہتا۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ روزہ کھولتے وقت پانی یا کھجور استعمال کریں لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ پھلوں کے تازہ جوس پینا جسم کو تقویت دیتا ہے۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ افطار میں اگر سموسے اور پکوڑے نہ ہوں تو اسے ادھورا تصور کیا جاتا ہے اور یہی کولیسٹرول میں اضافے اور صحت کی خرابی کا باعث بنتی ہیں، اسی لئے رمضان میں ان سے اجتناب کرنا چایئے کیونکہ تمام دن کے بعد معدے کو متوازن اور صحت مند غذا کی ضرورت ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ماہ صیام کے روزے کولیسٹرول کنٹرول کرنے، دل کے امراض، موٹاپا  اور دیگر بیماریوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔


Double Click 970 x 90

[ad_2]

Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

BFT News © 2022 Frontier Theme