عدالتوں سے بھاگ جانے والے قانونی معاونت اپنے پاس رکھیں، مریم اورنگزیب

[ad_1]

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ عدالتوں سے بھاگ جانے والے قانونی معاونت اپنے پاس رکھیں۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے وزیراعظم کے مشیر برائے داخلہ و احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر کے قانونی معاونت کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جن کی اپنی کوئی سیاسی اور قانونی حیثیت نہیں ہے وہ دوسروں کو قانون پر مشورہ نہ ہی دیں تو بہتر ہو گا۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ شہزاد اکبر کے بنائے اور لگائے الزامات میں سے ایک روپیہ سرکاری خزانے میں اب تک واپس نہیں آیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان کا کہنا تھا کہ الزامات لگانے اور سیاسی انتقامی کارروائیوں پر آنے والے سرکاری خرچ کی تفصیل عوام کے سامنے لائیں جبکہ یہ تفصیل عوام کے سامنے آئے تو پھر قانونی معاونت کی جلد ضرورت عمران صاحب اور شہزاد اکبر کو ہو گی۔

انہوں نےکہا کہ عید والے دن دفتر کھول کر توہین عدالت کرنے والے بہانے بنا کر اور سیاسی بیانات دے کر بھاگنے کی کوشش نہ کریں۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ شہزاد اکبر کی اپنی اور ان کے عہدے کی سپریم کورٹ کے مطابق کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے، وہ اپنے مشورے اور قانونی معاونت اپنے پاس ہی رکھیں۔

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ قانونی مشورے کی ضرورت انہیں ہے جن کی شہباز شریف کو ای سی ایل پہ ڈالنے کی اپیل لاہور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ مسترد کر چکی ہے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ قانونی مشورے اور معاونت کی ان کو ضرورت ہے جو پی آئی ڈی میں کاغذ لہراتے ہیں لیکن عدالت کے ثبوت مانگنے پر بھاگ جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قانونی مشورے اور معاونت کی ان کو ضرورت ہے جو سپریم کورٹ میں شہبازشریف کے کیس میں بھاگ گئے تھے جبکہ قانونی  معاونت کی ان کو ضرورت ہے جو جھوٹے ریفرنس تودائر کرسکتے ہیں لیکن عدالت میں ثابت  نہیں کر سکتے۔

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان نے کہا کہ شہبازشریف کا نام بلیک لسٹ اور ای سی ایل میں نہیں تھا جبکہ شہبازشریف کا نام ’پرسن ناٹ ان لسٹ‘ میں شامل کر کے عمران صاحب اور شہزاد اکبر نے توہین عدالت کی ہے۔

مریم اورنگزیب نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ای سی ایل میں نام شامل ہونے سے درخواستیں غیر مؤثر ہو جاتی ہیں، قانونی معاونت کی پیشکش کرنے والے کو اتنا تو پتہ ہونا چاہئیے؟

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ عمران صاحب اور شہزاد اکبر کو عید والے دن عوام کی نہیں بلکہ  شہبازشریف کی فکر تھی، دفتر کھلوا کر ای سی ایل میں نام شامل کیا گیا جبکہ غیر قانونی عہدے رکھنے والوں نے غیرقانونی لسٹ میں شہبازشریف کا نام ڈال کر توہین عدالت کی ہے۔


Double Click 970 x 90

[ad_2]

Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

BFT News © 2022 Frontier Theme