کورونا وائرس دوبارہ کس طرح پھیلا؟ عالمی ادارہِ صحت نے بتا دیا

عالمی ادارہِ صحت اور چین کی کورونا کے پھیلاؤ سے متعلق مشترکہ تحقیق، وائرس کی چمگادڑوں سے انسان میں منتقلی دوسرے جانوروں کے ذریعے ہوسکتی ہے، تحقیق کے نتائج۔

تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہِ صحت نے چین کے ساتھ مشترکہ تحقیق میں یہ انکشاف کیا ہے کہ کورونا وائرس کسی لیب کے زریعے نہیں بلکہ چمگادڑوں سے دوسرے جانوروں کے زریعے انسانوں میں پھیلا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو موصول ہونے والی رپورٹ کے مطابق محققین نے چار امکانات بیان کیے ہیں جس کی وجہ سے سارس کو ٹو نمودار ہوا، اس فہرست میں سب سے پہلے لکھا ہے کہ وائرس کسی دوسرے جانور سے منتقل ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کولڈ چین کھانے کی اشیاء کی وجہ سے وائرس کا چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہونا ممکن ہے مگر اس کے امکانات بہت کم ہیں۔

تاہم وائرس کی قریبی قسم جس کی وجہ سے کورونا وائرس پیدا ہوا، چمگادڑوں میں پائی گئی ہے۔

چمگادڑوں میں پیدا ہونے والے وائرس اور سارس-کو-ٹو کے درمیان فاصلے کئی دہائیوں کے ہیں اور اس کے جیسا وائرس پنگولین میں بھی پایا گیا ہے جو کہ منک اور بلیوں میں کوورنا وائرس ہو سکتا ہے۔

اس رپورٹ کو منظرِ عام پر لانے میں کئی مرتبہ تاخیر ہوئی اور خدشہ ظاہر کیا گیا کہ چین کی جانب سے نتائج کو بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ وباء کا الزام چین پر نہ جائے۔

واضح رہے کہ اس رپورٹ کو پریس میں لانے والے سفیر کا نام منظرِ عام ہر نہیں لایا گیا ہے کیونکہ اس کے اجراء سے پہلے اسے شائع کرنے کی اجازت نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

BFT News © 2022 Frontier Theme