عید کی تعطیلات میں اے ٹی ایمز سے کتنے روپے نکلوائے گئے – بول نیوز

[ad_1]

رمضان اور عیدالفطر کے دوران خصوصی اے ٹی ایم مانیٹرنگ سے ٹھوس نتائج برآمد ہوئے۔

بینک دولت پاکستان خصوصاً رمضان اور عید اور دیگر تہواروں کی  طویل تعطیلات کے دوران صارفین کو اے ٹی ایم سے متعلق سہولتوں کی زیادہ سے زیادہ دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے کمرشل بینکوں کی شراکت سے متعدد اقدامات کرتا رہا ہے۔

نتیجے کے طور پر اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کی مشترکہ کوششوں سے رمضان اور عیدالفطر کے دوران اے ٹی ایم خدمات کے کارگرر نے کا وقت اوسطاً  96.5 فیصد رہا، اس سے عیدالفطر کی تعطیلات کے دوران اپ ٹائم مزید بہتر ہوکر 98 فیصد ہوگیا۔

علاوہ ازیں رمضان اور عید کی تعطیلات کے دوران 63.2 ملین ٹرانزیکشنز کے ذریعے 827.2 ارب روپے نکالے گئے جبکہ صرف عید کی تعطیلات کے دوران 11.6 ملین ٹرانزیکشنز کے ذریعے 137.8 ارب روپے نکالے گئے.

اسٹیٹ بینک نے رمضان المبارک کے مقدس مہینے اور عیدالفطر کی طویل تعطیلات کے دوران نقد رقوم کی زیادہ طلب کے پیش نظر اے ٹی ایم مانیٹرنگ کی ایک خصوصی مشق کا آغاز کیا تھا۔

اسٹیٹ بینک کے اندر اس کام کے لیے وقف ایک ٹیم تشکیل دی گئی تھی تاکہ نگرانی کے ذریعے تمام بینکوں کے ملک گیر اے ٹی ایم آپریشنز پر نظر رکھی جا سکے۔

اسٹیٹ بینک کی وقف ٹیم کا عملہ بینکوں کے ساتھ رابطے کے لیے چوبیس گھنٹے دستیاب رہا، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا ئے کہ 9 دنوں پر مشتمل عیدالفطر کی تعطیلات کے دوران اے ٹی ایم کی خدمات بلاتعطل دستیاب رہیں۔

عوام الناس کی جانب سے اسٹیٹ بینک کی ٹیموں کو500سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں جنہیں کم سے کم وقت میں حل کرنے کے لیے بینکوں سے فوری طور پر رابطہ کیا گیا۔ اسٹیٹ بینک رمضان کے دوران اور عید کی تعطیلات میں اے ٹی ایم کی دستیابی کو یقینی بنانے پر بینکوں کی کوششوں کو سراہتا ہے۔

اے ٹی ایم کے کارگر رہنے کا وقت بھی اس لحاظ سے حوصلہ افزا ہے کہ بینکوں کے لیے یہ کام مشکل تھا کہ وہ خرابی دور کرنے کے لیے اے ٹی ایم کی مانیٹرنگ ٹیموں کو ایسے حالات میں متحرک کریں جب نقل و حرکت میں رکاوٹیں حائل ہوں اور مارکیٹوں کی بندش کی بنا پر پرزہ جات کا حصول دشوار ہوں، وغیرہ۔

اسٹیٹ بینک پختہ عزم رکھتا ہے کہ آئندہ بھی عوام کو سہولت فراہم کرتا رہے گا اور اس قسم کی مشقوں پر عمل جاری رکھے گا تاکہ بحیثیتِ مجموعی تمام عوام کو سہولتیں میسر آئیں۔


Double Click 970 x 90

[ad_2]

Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

BFT News © 2022 Frontier Theme