حالات زیادہ خراب ہوئے تو لاک ڈاؤن پر مجبور ہوجائیں گے، وزیراعظم

[ad_1]

وزیراعظم کا کہنا ہےکہ ہم لاک ڈاؤن نہیں کررہے، فیکٹریاں بھی کھلی ہیں، اللہ نہ کرے اگرحالات زیادہ خراب ہوجائیں تو پھر ہم بھی مجبور ہوجائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق ٹیلی فون پر عوام سے براہ راست بات چیت کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا کی پہلی اور دوسری لہر میں پاکستان کو اللہ نے زیادہ نقصان سے بچایا ، کورونا کی تیسری لہر خطرناک ہے، کوئی نہیں کہہ سکتا صورتحال کہاں تک جا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں ہمیں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ یورپ میں لوگوں کو ویکسین لگانے کے باوجود لاک ڈاؤن کیا گیا ہے، ہم لاک ڈاؤن نہیں کررہے، فیکٹریاں بھی کھلی ہیں، اللہ نہ کرے اگرحالات زیادہ خراب ہوجائیں تو پھر ہم بھی مجبور ہوجائیں گے، باقی دنیا میں جہاں بھی لاک ڈاؤن لگا وہاں سب سے زیادہ غریب لوگ متاثر ہوئے،ماسک پہننا سب سے آسان ہے، ماسک لازمی پہنیں اور پہلے سے زیادہ احتیاط کریں۔

ایک خاتون نے مہنگائی سے متعلق سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ کیا اب ہم گھبرالیں ؟

جس پر وزیر اعظم نے کہا کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود ہم 70 فیصد دالیں امپورٹ کررہے ہیں، ملک میں مڈل مین کی زیادہ منافع خوری کی وجہ سے مہنگائی ہے، ایسا نظام لارہے ہیں کہ کسان براہ راست منڈیوں تک چیزیں پہنچائیں، معیشت کی بہتری کی وجہ سے روپیہ بھی مستحکم ہواہے، گھبرانے کی ضرورت نہیں، ہماری ساری توجہ صرف مہنگائی کنٹرول کرنے پر ہے، مہنگائی کی وجہ جاننے کے لئے کام ہورہا ہے اور ہم قابو کرکے دکھائیں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لئے سخت  آرڈننس لائے ہیں، فیملی سسٹم کو بچانے کے لئے دین نے ہمیں پردے کا درس دیا، اسلام کے پردے کے نظریے کے پیچھے فیملی سسٹم بچانا اور خواتین کو تحفظ فراہم کرنا ہے، جب آپ معاشرے میں فحاشی پھیلائیں  گے تو جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافہ ہوگا، یورپ میں  اب فیملی سسٹم تباہ ہوچکا ہے، ان چیزوں کو دیکھتے ہوئے میں  نے صدرایردوان سے بات  کی اور ترک ڈرامے کو یہاں لایا۔

صحت کے شعبے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کے ذریعے صحت کے شعبے میں انقلاب لارہے ہیں، پنجاب، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں ہیلتھ کارڈ سے لوگ علاج کراسکیں گے، پختونخوامیں تمام خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ دیا گیا ہے، پنجاب میں بھی تمام خاندانوں کو ہیلتھ کارڈ دیئے جارہے ہیں، ہیلتھ کارڈکی سہولت ترقی یافتہ ملکوں میں بھی نہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کرپشن کینسر ہے جو صرف پاکستان میں نہیں بلکہ ہر غریب ملک میں پھیلا ہوا ہے، حکمرانوں کی کرپشن ملکوں کو مقروض کرتی ہے، کرپشن امیرملک کوبھی تباہ کردیتی ہے، امیر ممالک بھی کرپشن کی وجہ سے معاشی طور پر تباہ ہوجاتے ہیں، غریب ملکوں سے ہر سال ایک ہزار ارب ڈالر  چوری ہوتے ہیں، ساری قوم مل کر کرپشن کا مقابلہ  کرتی ہے،عمران خان اکیلے نہیں لڑسکتا۔

[ad_2]

Source link

Updated: اپریل 4, 2021 — 8:18 صبح

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

BFT News © 2022 Frontier Theme