انسدادتجاوزات مہم میں بے گھرافراد کوچیک کی تقسیم رک گئی

35

[ad_1]

کراچی کے نالوں پر انسداد تجاوزات کے دوران بے گھر خاندانوں کو امدادی رقوم کے چیکوں کی تقسیم مالی سال 21-2020ء کے خاتمے کے باعث گزشتہ 20 روز سے رکی ہوئی ہے۔

کے ایم سی کچی آبادیز کے سینئر ڈائریکٹر مظہر خان، جو گجر نالہ اور اورنگی ٹاؤن نالوں کے متاثرین کو امدادی چیکوں کی تقسیم کی نگرانی کررہے تھے، نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ چیکوں کی تقسیم رکی ہوئی ہے اور چند روز میں دوبارہ ہوجائیگی۔

مظہر خان نے بتایا کہ چیکوں کی تقسیم کیوں رکی ہوئی ہے؟

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے نالوں کے زیادہ تر متاثرین کیلئے امدادی رقم مالی سال 21-2020ء کے بجٹ میں مختص کی تھی۔ اس مالی سال کا اختتام 30 جون کو ہوچکا ہے۔

مظہر خان کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ کچھ وقت کیلئے متاثرین میں چیکوں کی تقسیم کا عمل رک گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جیسے ہی سندھ حکومت کی جانب بجٹ 22-2021ء میں مختص امدادی رقم اکاؤنٹ میں منتقل ہوتی ہے یہ عمل دوبارہ چند روز میں شروع ہوجائے گا۔

کراچی کے انسداد تجاوزات مہم کے دوران بے گھر ہونیوالے افراد میں امدادی رقم کی تقسیم کا عمل رواں سال فروری میں محمود آباد نالے پر غیر قانونی تعمیرات کے خاتمے کا کام مکمل ہونے کے بعد شروع ہوا تھا۔

محمود آباد نالے کے 200 متاثرین میں امدادی رقوم کے چیک تقسیم کئے جاچکے ہیں۔ اس وقت گجر اور اورنگی ٹاؤن نالوں کے متاثرین میں امدادی رقم کے چیک تقسیم کئے جارہے ہیں۔

اس موقع پر نالوں کے متاثرین نے حکام سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں کے گھر گرائے گئے ہیں ان تمام افراد کو امدادی رقوم کے چیک نہیں ملے۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ حکام ان لوگوں کو شمار نہیں کررہے جن کے شناختی کارڈ پر مستقبل پتے دیگر شہروں کے ہیں۔

انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ حکام نے ایک یونٹ کیلئے ایک متاثرہ کنبہ کو شمار کیا ہے، اس حقیقت کے باوجود کہ ایک ہی چھت تلے ایک سے زیادہ خاندان رہ رہے ہیں۔

مظہر خان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اس عمل کے دوران متعلقہ علاقے کے اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی، جس میں مختیار کار، یونین کونسل سیکریٹری اور لینڈ اینڈ کچی آبادیز کا سرویئر شامل تھے، جنہیں آپریشن کے مقامات کا دورہ کرنے اور گرائے گئے گھروں کا ریکارڈ مرتب کرنے کا کام دیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایسے مکانات جو 30 فیصد سے کم متاثر ہوئے تھے وہ امداد کے اہل نہیں تھے، متاثرین میں چیکوں کی تقسیم بلاتفریق تقسیم کئے جارہے ہیں، یہ دیکھے بغیر کہ شناختی کارڈ پر ان کا مستقل پتہ کیا ہے۔

مظہر خان نے بتایا کہ سروے کے دوران یہ فیصلہ کیا گیا کہ یونٹوں کو کچن اور واش روم کے حساب سے شمار کیا جائے گا، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر گھر والے ایک گھر میں رہ رہے ہیں جس میں ایک ہی باورچی خانے اور واش روم ہیں تو ایک ہی خاندان میں اس کا شمار ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کوئی متاثر کن افراد اپنے معاوضے کی جانچ پڑتال میں اصلاح چاہتے ہیں، تو وہ نام، قومی شناختی کارڈ نمبر اور تصدیق کیلئے ایک بیان حلفی کے ساتھ متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر جاسکتے ہیں۔

کے ایم سی کے سینئر افسر نے کہا کہ 30 جون تک چیکوں کی میعاد ختم ہوگئی ہے اور وہ لوگ جو کسی بھی وجہ سے جمع نہیں کرپائے، انہیں دوبارہ عمل کے آغاز کا انتظار کرنا پڑیگا۔ حکام ان متاثرین کو بھی دوبارہ چیک جاری کردیں گے، جنہیں کسی وجہ سے اپنے چیک اپنے اکاؤنٹ میں جمع نہیں کروائے گئے تھے۔

انہوں نے تصدیق کی کہ حکومت ہر متاثرہ خاندان کیلئے پہلی قسط 90 ہزار روپے معاوضہ چیک کی صورت میں جاری کرتی ہے۔ متاثرہ کنبوں کو ہر 6 ماہ کے بعد 90 ہزار روپے کا چیک دیا جائے گا۔

محمود آباد، اورنگی ٹاؤن اور گجر نالوں سمیت 3 بڑے طوفان آبی نالوں پر 5 ہزار سے زائد مکانات کو تجاوزات کے طور پر مارک کیا گیا ہے۔