کیا بچوں کو کووڈ سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا؟ طبی ماہرین نے رپورٹ جاری کردی

[ad_1]

سب سے پہلے اپنے ذہن سے اس خیال کو نکال دے کہ بچوں کو کووڈ سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق برازیل میں کووڈ 19 کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتیں اس وقت عروج پر ہیں۔

برازیل میں اب تک 2600 سے زیادہ نوزائيدہ بچے کورونا کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔

بڑی دعاؤں کے بعد پیدا ہونے والا لُوکس ایک سال کی عمر میں ہی کووڈ کے ہاتھوں زندگی سے ہار گیا، صرف اس لیے کیونکہ ڈاکٹروں نے بروقت اُس کا کووڈ ٹیسٹ نہیں کروایا۔

لُوکس میں کووڈ کی تمام علامات تھیں حتیٰ کہ اُس کا آکسیجن لیول بھی 86 فیصد تک گر گیا تھا لیکن بخار نا ہونے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے اُس کا کووڈ ٹیسٹ نہیں کیا اور اینٹی بائیوٹک دواؤں پر ڈال دیا۔

اس حوالے سے لُوکس کے والدین کا کہنا ہے کہ ایک بچہ زبان سے اظہار نہیں کر سکتا، اسی لیے ٹیسٹ پر انحصار کیا جاتا ہے۔

 اگر ڈاکٹروں کو یقین ہو بھی کہ کسی بچے کو کووڈ نہیں ہے پھر بھی اس خطرے کو مکمل طور پر خارج از امکان قرار دینے کے لیے کورونا ٹیسٹ ضرور کروانا چاہیے کیونکہ بچوں میں کووڈ کی علامات بڑوں سے مختلف ہو سکتی ہیں۔

دوسری جانب ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگر آپ کے بچے کا رنگ زرد اور جسم ٹھنڈا پڑ رہا ہو، سانس لینے میں دشواری ہو، ہونٹ نیلے پڑنے لگیں، کسی قسم کا دورہ پڑے، انتہائی سست پڑ جائے، جسم پر سرخ نشان پڑ جائیں جو دبانے سے غائب نہ ہوں تو فوری طبی امداد حاصل کریں۔

متاثرہ بچے کے والدین کا کہنا ہے کہ ٹیسٹ نا کروانے کے باعث لوُکس کے کیس میں جو تاخیر ہوئی، اُسی تاخیر نے اُس کی جان ل لی۔

واضح رہے اگر وقت پر کووڈ ٹیسٹ ہو گیا ہوتا تو شاید لُوکس آج زندہ ہوتا، ڈاکٹرز سمجھتے رہے کہ لُوکس کو نا شوگر ہے، نا دل کا کوئی مرض اور نا ہی کوئی موروثی علامات کہ کووڈ ہونے کا شبہ پیدا ہو، بس یہی اُن کی غلطی تھی۔

[ad_2]

Source link

Updated: اپریل 15, 2021 — 6:06 شام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

BFT News © 2022 Frontier Theme