رات دیر تک جاگنے کی عادت کا بڑا نقصان جان لیں

[ad_1]

اگر آپ رات دیر تک جاگنے اور صبح اٹھنے میں مشکل محسوس کرنے والے افراد میں سے ہیں، تو آپ کے لیے بری خبر ہے۔

 طبی تحقیق کے مطابق رات دیر تک جاگنے کی عادت جان لیوا بیماری کا باعث بن سکتی ہے۔

برطانیہ کی لیسٹر شائر یونیورسٹی اور آسٹریلیا کی جنوبی آسٹریلیا یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ لوگوں کی سونے کی عادات اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کے درمیان تعلق موجود ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ رات گئے تک جاگنے اور صبح دیر سے اٹھنے والے افراد کا طرز زندگی بہت زیادہ سست ہوتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ جسمانی طور پر بہت کم متحرک ہوتے ہیں، جس سے ان کی صحت کے لیے خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ذیابیطس ٹائپ ٹو عموماً زیادہ جسمانی وزن اور سست طرز زندگی کا نتیجہ ہوتا ہے جو اس وقت دنیا کے ہر 11 میں سے ایک بالغ افراد کو لاحق ہے۔

 ذیابیطس متعدد امراض کا باعث بننے والی بیماری ہے تو ماہرین کی جانب سے اس حوالے سے کافی کام کیا جارہا ہے۔

اس نئی تحقیق میں شامل ماہرین کا کہنا تھا کہ لوگوں کی نیند کی عادات جسمانی سرگرمیوں پر اثرانداز ہوتی ہے اور اس کو سمجھنے سے ذیابیطس کے مریضوں کو اپنی حالت کو مستحکم رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت بڑے پیمانے پر ذیابیطس کے مریضوں کی مدد کی ضرورت ہے تاکہ وہ متحرک طرز زندگی کو برقرار رکھ کر صحت مند زندگی گزار سکیں۔

محققین کا کہنا تھا کہ ورزش ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہت ضروری ہے، کیونکہ اس سے صحت مند وزن برقرار اور بلڈ پریشر برقرار رکھنے میں مدد ملتی ہے جبکہ امراض قلب کا خطرہ کم ہوتا ہے۔

طبی جریدے بی ایم جے اوپن ڈائیبیٹس ریسرچ اینڈ کیئر میں شائع تحقیق میں ذیابیطس ٹائپ ٹو کے 635 مریضوں کا جائزہ 7 دنوں تک لیا گیا تاکہ ان کے مختلف جسمانی رویوں، نیند، آرام اور مجموعی جسمانی سرگرمیوں کا تعین کیا جاسکے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 25 فیصد افراد جلد سونے اور جاگنے کے عادی تھے، 23 فیصد رات دیر تک جاگنے اور دن میں دیر سے اٹھتے تھے جبکہ باقی 52 فیصد نے کسی گروپ سے اپنا تعلق ظاہر نہیں کیا۔

محققین نے دریافت کیا کہ نتائج سے ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں کے رویوں کے بارے میں منفرد تفصیلات ملتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ رات دیر سے سونے اور کم جسمانی سرگرمیوں کے درمیان تعلق واضح ہے، یعنی بستر پر رات دیر سے جانے والے جسمانی طور پر کم متحرک ہوتے ہیں۔

اس کے مقابلے میں علی الصبح جاگنے والے افراد جسمانی طور پر زیادہ متحرک اور صحت مند طرز زندگی کو اپناتے ہیں۔

کچھ عرصے قبل امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ صبح جلد اٹھنے اور رات کو جلد سونے کے عادی افراد کے مقابلے میں رات دیر تک جاگنے والوں کو زیادہ امراض اور طبی مسائل کا زیادہ سامنا ہوتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ ایسے افراد میں کسی بھی مرض سے درمیانی عمر میں موت کا خطرہ جلد اٹھنے والوں کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

اسی طرح اس عادت کے نتیجے میں ذیابیطس کا خطرہ 30 فیصد، دماغی امراض کا 25 فیصد، معدے کے امراض کا خطرہ 23 فیصد جبکہ نظام تنفس کا خطرہ 22 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 5 لاکھ افراد سے زائد کی نیند کے حوالے سے عادات کا تجزیہ کیا گیا اور معلوم ہوا کہ رات دیر تک جاگنے کا خمیازہ جسم کو مختلف طبی مسائل کی شکل میں بھگتنا پڑتا ہے۔

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ رات دیر تک جاگنے والوں میں ذیابیطس، نفسیاتی امراض اور دماغی عوارض کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ اس سے عندیہ ملتا ہے کہ رات دیر تک جاگنے سے جسم کی اندرونی گھڑی پر اثرات مرتب کرتی ہے جو باہری ماحول سے مطابقت پیدا نہیں کرپاتی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ غلط وقت پر کھانا، ورزش نہ کرنا، نیند کی کمی اور رات دیر تک جاگنے سے متعدد صحت کے لیے نقصان دہ رویوں یا عادات کو اپنانا ممکن ہوجاتا ہے۔

محققین نے اس حوالے سے لوگوں کی صبح یا شام کے حوالے سے نیند کے حوالے سے رجحان اور امراض کے خطرے کے درمیان تعلق جاننے کی کوشش کی۔

ساڑھے 6 سال تک 5 لاکھ افراد کی عادات کا جائزہ لیا گیا اور معلوم ہوا کہ رات دیر تک جاگنا صحت کے لیے تباہ کن ثابت ہوسکتا ہے۔

 

[ad_2]

Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

BFT News © 2022 Frontier Theme