جہازوں میں درمیانی نشست خالی چھوڑنے سے مسافر کو کورونا وائرس کا خطرہ کم ہوسکتا ہے؟

[ad_1]

کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے کے پیشن نظر ہوائی جہاز کا سفر ماضی کی طرح شاید دوبارہ ممکن نہ ہو سکے کیونکہ وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے سبب طیاروں کی مکمل صفائی کرنے، دوران پرواز طیارے میں مسافروں کے درمیان حفاظتی فاصلے کو برقرار رکھنے، چہرے پر لازمی ماسک پہننے، اور روانگی سے قبل ایئر پورٹ میں کورونا وائرس کی تشخیص کے سلسلے میں مسافروں کا فٹا فٹ ٹیسٹ کرنے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے متعدد ایئرلائنز اپنے طیاروں میں دوران پرواز مسافروں کے درمیان نشست خالی رکھنے پر پہلے سے عمل پیرا ہیں۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب:مزید پانچ ہوائی اڈے اندرون ملک پروازوں کیلئے کھول دیئے گئے

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق ہوائی جہازوں میں درمیانی نشستیں خالی چھوڑنے سے مسافر کے کورونا وائرس کا خطرہ نمایاں طور پر کم ہوسکتا ہے۔

سی ڈی سی اور کینساس اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین کے مطابق جہازوں میں درمیانی نشستوں پر مکمل قبضہ کے بجائے ایک نشست خالی چھوڑنے سے ہوائی جہاز میں سفر کے دوران وائرس پھیلنے میں 23 فیصد سے 57 فیصد کمی آسکتی ہے اور اس طرح عالمی وبا پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

سی ڈی سی اور کینساس اسٹیٹ یونیورسٹی کے محققین نے تجربہ گاہ میں ایسے جہاز کے ماڈلز کا استعمال کیا جب طیارے کے کیبن میں درمیانی نشستیں خالی رکھی گئی تھیں اور اس تجربے کے دوران وائرس کے ذرات سے نمٹنے میں کمی واقع ہوسکتی ہے۔

محققین نے بتایا کہ ماسک پہننے کے باوجود کورونا وائرس ایک مسافر سے دوسرے مسافر میں منتقل ہوسکتا ہے اور اس کے لیے ایک نشست خالی چھوڑ کر سماجی دوری کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ جہاز میں ایک نشست خالی چھوڑنے سے کورونا وبا پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔

[ad_2]

Source link

Updated: اپریل 15, 2021 — 4:31 شام

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

BFT News © 2022 Frontier Theme