پیپلزپارٹی اتحاد میں واپسی کی خواہشمند ہے،مولانا فضل الرحمان

[ad_1]

پی ڈی ایم کےسربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہناہے کہ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں استعفوں پر تیار نہیں، پیپلز پارٹی اور عوامی نشینل پارٹی کے پی ڈی ایم سے استعفے منظور نہیں کئے گئے۔

مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی اتحاد میں واپسی کی خواہشمند ہے لیکن ہماری شرط پر سوچ بچار کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور اے این پی کے لئے اتحاد میں شمولیت میں کوئی رکاوٹ نہیں، اتحاد برقرار ہے اور عید کے بعد اس کا سربراہی اجلاس بلایا جائے گا۔

سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ اگر پیپلزپارٹی اتحاد میں واپس آ کر ہمارا موقف تسلیم کر لےتو ہم سینیٹ میں ان کے اپوزیشن لیڈر کو بھی تسلیم کرسکتے ہیں۔

  مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی بھی باپ سے ووٹ لینے پر پیپلزپارٹی سے ناراض ہے، ان کی قیادت کو کسی دباﺅ کی وجہ سے اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کرنا پڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے لئے اتحاد کے دروازے کھلے ہیں، جو ہم نے وضاحت طلب کی تھی وہ دے دیں تومعاملات آگے چل پڑیں گے۔

فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پی ڈی ایم میں اب ن لیگ کی قیادت شہباز شریف کریں گے اور عید کے بعد بھرپورعوامی رابطہ مہم چلائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو بحال کرنے کے لئے ملک میں سیاسی استحکام انتہائی ضروری ہے، موجودہ پارلیمنٹ میں ان ہاﺅس تبدیلی کا کوئی آپشن نہیں، انتخابی اصلاحات کے لئے ایسی قومی حکومت کے قیام کی راہ ہموار ہو سکتی ہے جس میں اپوزیشن کا پلڑا بھاری ہو۔

سربراہ پی ڈی ایم نے مزید کہا کہ کشمیر پر بھارت کے مقابلے میں ہمارے موقف میں مضبوطی تب ہی پیدا ہوگی جب ہم معاشی طور پر مضبوط ہوں گے،کمزور معیشت کی وجہ سے ہماری خارجہ پالیسی اور دفاع میں بھی مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں نے میرا اسمبلیوں سے حلف نہ لینے کا مطالبہ نہ مان کر اپنا نقصان کیا، اگر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کچھ عرصے کے لئے حلف نہ اٹھاتے تو معاملات کی نوعیت کچھ اور ہوتی۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تجارت کے ہم بھی حق میں ہیں لیکن اس سے قبل اقتصادی استحکام اور سیاسی مفاہمت بہت ضروری ہے، ماضی میں جب ملک کی معیشت مضبوط تھی تو واجپائی بس میں کر بیٹھ کر لاہور آگیا تھا، اس وقت بھی ہم نے ان کا استقبال کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کمزور معیشت کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر پر ہمارا موقف تحلیل ہو رہا ہے، ہم بہت کمزور پوزیشن پر کھڑے ہیں، اس صورتحال سے نکلنے کے لئے ہمیں مفاہمت سے راستہ بنانا پڑے گا۔

[ad_2]

Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

BFT News © 2022 Frontier Theme