طالبان کی ایک گولی کا زخم اب تک بھرنہیں سکا

43

[ad_1]

نوبل انعام یافتہ پاکستانی ملالہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ وہ خود پر حملے کے نو سال بعد بھی طالبان کے ہاتھوں لگی ایک گولی سے صحت یاب ہو رہی ہیں۔

انگریزی ویب سائٹ پوڈیم بلیٹن پر چھپنے والے ایک بلاگ میں ملالہ کا کہنا ہے کہ دو ہفتے قبل، جب امریکی فوجیں افغانستان سے واپس چلی گئیں اور طالبان نے کنٹرول حاصل کیا تو میں بوسٹن کے ایک اسپتال کے بستر پر لیٹی ہوئی تھی۔

ملالہ کے مطابق نو اگست کو وہ امریکی شہر بوسٹن میں صبح پانچ بجے اٹھیں تاکہ اپنی تازہ ترین سرجری کے لیے ہسپتال جائیں اور خبروں میں دیکھا کہ طالبان نے افغانستان کے بڑے شہر قندوز پر قبضہ کر لیا ہے۔

ملالہ کا کہنا ہے نو سال بعد، میں ابھی تک صرف ایک گولی سے صحت یاب ہو رہی ہوں۔ افغانستان کے عوام نے گذشتہ چار دہائیوں میں لاکھوں گولیاں کھائی ہیں۔ میرا دل ان لوگوں کے لیے ٹوٹ جاتا ہے جن کے نام ہم بھول جائیں گے یا کبھی معلوم بھی نہیں ہوں گے، جن کا مدد کے لیے پکارنا بے جواب ہو جائے گا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ میری حالیہ سرجری کے زخم تازہ ہیں۔ میری پیٹھ پر اب بھی داغ ہے جہاں ڈاکٹروں نے میرے جسم سے گولی نکال دی تھی۔