پاکستان پرامن افغانستان کا حامی ہے، شاہ محمود قریشی

[ad_1]

وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا چینی ہم منصب وانگ ژی کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو میں دونوں وزرائے خارجہ کے مابین دو طرفہ تعلقات ،فلسطین کی صورتحال اور افغان امن عمل سمیت باہمی دلچسپی کے علاقائی و عالمی امور پر تبادلہء خیال ہوا ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نے ‏چین کے ایکسپلوریشن مشن کی مریخ پر کامیاب لینڈنگ پر چینی قیادت اور عوام کو مبارکباد دی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو میں شاہ محمود کا کہنا تھا کہ چینی خلائی مشن کی مریخ پر لینڈنگ، ٹیکنالوجی کے میدان میں چین کی تاریخی کامیابی ہے، 2021 پاکستان اور چین کی مثالی اور لازوال دوستی کے حوالے سے خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ رواں سال پاکستان اور چین کے مابین سفارتی تعلقات کے ستر سال مکمل ہو رہے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے دو طرفہ تعلقات مزید مستحکم  اور اسٹریٹیجک شراکت داری میں تبدیل ہوئے۔

وزیر خارجہ نے کورونا وبائی چیلنج سے نمٹنے کیلئے دو طرفہ تعاون بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

شاہ محمود قریشی نے پاکستان میں کورونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے چین کی مسلسل معاونت اور ترجیحی بنیادوں پر ویکسین کی فراہمی پر چینی قیادت اور وزیر خارجہ کا شکریہ ادا بھی کیا۔

وزیر خارجہ نے چینی ہم منصب کو فلسطین میں جاری اسرائیلی جارحیت اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں پر پاکستان کی شدید تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ کے امن کیلئے شدید خطرے کا باعث قرار دیا۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ مسجد اقصٰی میں عبادت میں مصروف نمازیوں پر حملہ اور نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کے مظالم، انسانی حقوق اور عالمی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ فلسطین کے پرامن حل، اسرائیلی جارحیت کے سدباب اور نہتے فلسطینیوں  کو بربریت سے نجات دلانے کیلئے عالمی برادری کو فوری کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

وزیر خارجہ نے چینی ہم منصب کو فلسطین کے معاملے پر وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے عالمی برادری کے ساتھ جاری روابط کی تفصیلات سے بھی آگاہ کیا۔

دونوں وزرائے خارجہ نے افغان امن عمل کے حوالے سے بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

اس موقع پر شاہ محمود قریشی  کا کہنا تھا کہ پاکستان پرامن، خودمختار اور مستحکم افغانستان کا حامی ہے۔

وزیر خارجہ نے چینی وزیر خارجہ کو افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کی مصالحانہ کاوشوں سے آگاہ کیا ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، افغان قیادت میں افغانوں کو قبول جامع مذاکرات کے ذریعے افغان مسئلے کے دیرپا حل کا متمنی ہے۔

وزیر خارجہ نے افغان سرزمین سے بیرونی افواج کے ذمہ دارانہ انخلاء، پرتشدد کارروائیوں میں کمی اور افغان گروہوں کے مابین مکمل جنگ بندی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

شاہ محمود قریشی  کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں امن و استحکام کیلئے چین، افغانستان، پاکستان پر مشتمل سہ رکنی وزرائے خارجہ مذاکراتی فورم خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو میں دونوں وزرائے خارجہ کا درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے پاکستان اور چین کے مابین اسٹریٹیجک شراکت داری کے فروغ پر بھی اتفاق ہوا۔

دونوں وزرائے خارجہ نے علاقائی و بین الاقوامی سطح پر امن و استحکام  اور قانون کی بالادستی کیلئے مشترکہ کاوشیں بروئے کار لانے پر بھی اتفاق کیا ہے۔


Double Click 970 x 90

[ad_2]

Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

BFT News © 2022 Frontier Theme