شہباز شریف: پیپلزپارٹی اور اے این پی کو پی ڈی ایم میں شمولیت کی دعوت دیدی

[ad_1]

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر میاں شہباز شریف نے پاکستان پیپلزپارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی کو پی ڈی ایم میں دوبارہ شمولیت کی دعوت دے دی ہے۔

شہباز شریف کا عشائیہ: پیپلزپارٹی شرکت پر آمادہ

ہم نیوز کے مطابق ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے یہ دعوت اپنی جانب سے پارلیمانی پارٹی کے رہنماؤں کے اعزاز میں دیے جانے والے عشائیے میں دی ہے۔

ذمہ دار ذرائع کے مطابق پی پی اور اے این پی کے عشائیے میں موجود وفود نے اس سلسلے میں میاں شہباز شریف سے وقت مانگ لیا ہے تاکہ وہ سوچ و بچار کرسکیں اور پارٹی میں مشاورت بھی ہو سکے۔

ہم نیوز کو ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف کی جانب سے دیے جانے والے عشائیے سے میزبان کے علاوہ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور اسعد محمود نے بھی خطاب کیا۔

ذرائع کے مطابق میاں شہباز شریف نے اپنے خطاب میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی معاشی واقتصادی صورتحال اچھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہرشعبے میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔

پی ڈی ایم کا پی پی کو شوکاز نوٹس: اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا الزام

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف نے اپنے خطاب میں اہم قومی ایشوزپراپوزیشن کے اتحاد پرزور دیتے ہوئے کہا کہ ملکی مفاد کی خاطرموجودہ حکومت کے خلاف مل کرچلنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بجٹ میں عوام کوبہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بجٹ سیشن میں حکومت کوٹف ٹائم دیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت احتساب کے نام پرسیاسی انتقام لے رہی ہے۔

ہم نیوز کو ذرائع نے بتایا کہ پی پی کے مرکزی رہنما اور سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ اپوزیشن کو حکومتی ناکامیوں کواجاگرکرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ موجودہ حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے اپوزیشن ایک ہو۔ انہوں  نے چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے تمام شرکا تک نیک خواہشات کا پیغام بی پہنچایا۔

پی ڈی ایم چھوڑ کرجانیوالے غلطی تسلیم کریں، فضل الرحمان

ہم نیوز کے مطابق جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے رہنما اسعد محمود نے اس موقع پر کہا کہ پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے بھرپور احتجاجی تحریک وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر مل کر چلنے کی بات کی۔

[ad_2]

Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

BFT News © 2022 Frontier Theme