کورونا وائرس کی نئی اقسام سے متعلق چونکا دینے والے حقائق

[ad_1]

حالیہ ہفتوں میں کورونا وائرس کی کئی نئی اقسام برطانیہ، جنوبی افریقہ، بھارت اور برازیل میں دریافت ہوئی ہیں۔

اب پہلی بار ایک تحقیق میں برطانیہ میں نئے وائرس کے شکار ہونے والے افراد میں نمودار ہونے والی عام علامات کی شناخت کی گئی ہے۔

برطانیہ کے آفس فار نیشنل اسٹیٹکس کی تحقیق میں بتایا گیا کہ برطانیہ میں دریافت ہونے والی نئی قسم سے متاثر افراد میں کھانسی، تھکاوٹ، گلے میں سوجن اور مسلز کی تکلیف زیادہ عام علامات ہوتی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق کورونا وائرس کی تیزی سے پھیلنے والی اقسام میں ایسی میوٹیشنز موجود ہیں جو اس وائرس کو ویکسین سے پیدا ہونے والے مدافعتی ردعمل سے کسی حد تک بچنے میں مدد کرتی ہیں۔

امریکا کے اسکریپرز ریسرچ انسٹیٹوٹ کی اس تحقیق میں جرمنی اور نیدر لینڈز کے ماہرین نے بھی کام کیا ہے اور اس میں میوٹیشنز کے بارے میں اہم حقائق بتائے ہیں۔

 تحقیق کے مطابق کوروناکی نئی اقسام کچھ کیسز میں ویکسی نیشن کے باوجود لوگوں کو بیمار کرسکتی ہیں، اسی لیے طبی ماہرین نے جاننے کی کوشش کی کہ یہ اقسام کس طرح مدافعتی ردعمل سے بچنے کے قابل ہوتی ہیں۔

 کورونا وائرس کی نئی اقسام سے متعلق سائنسدانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ بچوں کو پرانی اقسام کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے متاثر کرسکتی ہے، چنانچہ بتدریج ویکسینز کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہوگی۔

واضح رہےکہ وائرس کی نئی اقسام کے بارے میں جاننے کے لیے ماہرین تیزرفتاری سے کام کررہے ہیں تاکہ مریضوں اور ویکسینز پر اس کے اثرات کا تعین کیا جاسکے۔


Double Click 970 x 90

[ad_2]

Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

BFT News © 2022 Frontier Theme