کووڈ 19 کی برطانوی قسم موجودہ ویکسین کی افادیت کم کرسکتی ہے، پاکستانی تحقیق

کراچی: پاکستانی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کووِڈ 19 کی حالیہ عالمی وبا کا باعث بننے والے ’’سارس کوو ٹو‘‘ وائرس کی تبدیل شدہ برطانوی قسم شاید پاکستان میں بھی کورونا وبا کی تیسری لہر کے بعد اس کے تیز رفتار پھیلاؤ کی وجہ بن رہی ہے۔

دوسری جانب بعض دیگر تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ برطانیہ سے پھوٹنے والا وائرس، جسے SARS-CoV-2/B.1.1.7 یا مختصراً B.1.1.7 کا نام بھی دیا گیا ہے، ہماری موجودہ ویکسینز کی افادیت کو کم کرسکتا ہے۔

واضح رہے کہ اس سال فروری کے آخری ہفتے میں حکومتِ پاکستان ملک میں وائرس کی برطانوی قسم کا اعتراف کرتے ہوئے کہہ چکی ہے کہ سب سے پہلے چینی شہر ووہان میں نمودار ہونے والے ’’سارس کوو ٹو‘‘ کے مقابلے میں اس کی نئی اور تبدیل شدہ قسم B.1.1.7 قدرے تیزی سے پھیل سکتی ہے۔
اب مزید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس سے شفایاب ہونے اور امنیاتی قوت پانے والے افراد بھی شاید دوبارہ اس نئے وائرس کا شکار ہوسکتے ہیں۔

اس ضمن میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ذیلی ادارے ’’کالج آف بایوٹیکنالوجی‘‘ کے وائس پرنسپل ڈاکٹر مشتاق حسین کی نگرانی میں نوجوان اسکالرز نے ووہان اور برطانوی کووڈ 19 وائرس کا تفصیلی اور سالماتی (مالیکیولر) پیمانے پر موازنہ کیا ہے۔

ثانیہ شبیر، انوشہ امان اللہ، فوزیہ رضا، محمد جنیس امداد اور سحر زیدی نے دونوں وائرسوں کی ساخت اور بیماری پھیلانے کی استعداد کا جائزہ لیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

BFT News © 2022 Frontier Theme