طالبان 31اگست کےبعد بھی انخلا کی اجازت پرراضی ہیں، امریکا

40

[ad_1]

فوٹو: اے ایف پی

امريکی وزير خارجہ نے کہا ہے کہ افغانستان ميں اب بھی 1500 امريکی شہری موجود ہيں جبکہ طالبان 31اگست کے بعد بھی انخلا کی اجازت پر راضی ہيں۔

امريکی وزير خارجہ انتھونی بلنکن کا کہنا ہے کہ اب تک ساڑھے چار ہزار امريکی شہری واپس آچکے ہيں جبکہ گزشتہ روز سيکڑوں امريکيوں کو افغانستان سے نکالا جا چکا ہے۔

انتھونی بلنکن نے کہا ہے کہ افغانستان ميں انخلا کا عمل تاريخی ہے لیکن انخلا کے عمل کے حوالے سے کوششيں بہت نازک مرحلہ ہے۔

واضح رہے کہ طالبان کے ساتھ معاہدے کے تحت امریکا اور اتحادیوں کو 31اگست تک افغانستان سے انخلا مکمل کرنا ہے جس کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کہہ چکے ہیں کہ امریکا اور اتحادی افواج وعدے کے مطابق انخلاء مکمل کرلیں ورنہ 31 اگست کے بعد ہم ان کی سیکیورٹی کے ذمہ دار نہیں ہوں گے۔

ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ غیرملکیوں کے افغانستان چھوڑنے کی کوئی ممانعت نہیں تاہم افغان عوام کے لیے کابل ایئرپورٹ کا راستہ مکمل بند ہے۔

افغان طالبان نے 15اگست کو کابل کا کنٹرول سنبھال لیا تھا جس کے بعد کابل ایئرپورٹ پر ملک چھوڑنے والوں کا رش ہے جبکہ صدر اشرف غنی ملک چھوڑ کر فرار ہوگئے تھے۔