ذیابیطس کے مریض رمضان میں کن عادات کو اپنائیں؟

[ad_1]

رمضان کے دوران ہر مسلمان روزہ رکھنا چاہتا ہے، روزہ چھوڑنے کا خیال انسان کو افسردگی کا احساس دلاتا ہے۔

 لہٰذا روزہ چھوڑنے سے بہتر ہے اگر ذیباطیس کے مریض اپنے معالج کے مشورے، چند صحت مند اصولوں اور عادات پر اس مہینے میں عمل کر لیں تو روزے کے فوائد اور ثواب حاصل کیا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں ہر چار میں سے ایک فرد ذیابطیس کی کسی نہ کسی قسم کا شکار ہے اور جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو ذیابطیس کے مریضوں کے ذہنوں میں صحت سے متعلق متعدد سوالات اور پریشانیاں جنم لیتی ہیں۔

ذیابطیس کے مریض اگر روزہ رکھ رہے ہیں تو اُنہیں صحت مند اور متوازن بلڈ شوگر لیول کے لیے کیا کرنا چاہیے وغیرہ جن کے جوابات جاننا نہایت لازمی ہیں۔

ذیابیطس کے ماہرین کے مطابق ذیابیطس ٹائپ 1 کے مریضوں کو روزہ نہیں رکھنا چاہیے جبکہ ذیابیطس ٹائپ ٹو کے مریضوں کو روزہ رکھنے سےقبل اپنے معالج سے ضرور مشورہ کر لینا چا ہیے تاکہ کسی ایمر جنسی کی صورت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اس حوالے سے طبی ماہرین کے مطابق رمضان اور روزہ صحت سے متعلق کئی شکایتوں کا حل لے آتا ہے، روزہ صحت کا نام ہے مگر ذیابطیس کے مریضوں کو خالصتاً روزہ رکھنے سے قبل اپنے معالج سے رابطہ کرنا چاہیے۔

ماہرین کی جانب سے بہترین مشورہ یہ دیا جاتا ہے کہ ہر مریض رمضان کے آغاز سے قبل ہی اپنے معالج سے دواؤں کا اور غذا کا چارٹ اور طریقہ کار استعمال بنوا لے، ادویات سے متعلق خود سے کوئی فیصلہ نہ کریں۔

روزہ رکھنا اُن افراد کے لیے مشکل ہوتا ہے جو کہ انسولین کا استعمال کرتے ہوں یا شوگر سے متعلق مخصوص ادویات کا استعمال کر ررہے ہوں۔

طبی ماہرین کی جانب سے تجویز کیا جاتا ہے کہ شوگر کے مریض رمضان کے مہینے کے دوران پروٹین اور فائبر سے بھرپور غذا کا استعمال کریں جبکہ میٹھے کھانوں اور کیفین سے گریز کریں۔

ذیابیطس کے مریض رمضان کے دوران ہر قسم کی غذا کا استعمال کرسکتے ہیں بس یہ خیال رکھیں کہ وہ متوازن غذا ہو، کسی بھی غذا کا زیادہ استعمال باعث پریشانی بن سکتا ہے۔

شوگر کے شکار افراد سحری میں ایسی غذاؤں کا استعمال کریں جو دیر سے ہضم ہوں، عام حالات میں ذیابیطس کے مریض پراٹھا نہیں کھاسکتے لیکن وہ سحری میں کم تیل سے بنا ہوا پراٹھا کھاسکتے ہیں۔

کولیسٹرول کے بڑھنے کے خدشات کے سبب انڈے کا استعمال نہ کریں، شوگر کے مریض اگر انڈے کا استعمال کرنا بھی چاہتے ہیں تو نصف زردی کے ساتھ انڈہ کھایا جا سکتا ہے۔

ذیابطیس کے جن مریضوں کو پیاس زیادہ لگتی ہے وہ سحری میں الائچی کے قہوے کا استعمال کر سکتے ہیں۔

الائچی کے قہوے میں کم مقدار میں دودھ بھی شامل کیا جا سکتا ہے یا پھر نمکین لسی کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے ۔

ذیابیطس کے مریض روزہ کھجور سے افطار کر سکتے ہیں ، تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک کھجور میں 6 گرام کاربوہائڈریٹس پائے جاتے ہیں جس میں معدنیات، فائبر ، فاسفورس اور پوٹاشیم بھی موجود ہوتا ہے، کھجور میں پائے جانے والا پوٹاشیم تھکاوٹ اور بوجھل پن دور کرتا ہے۔

افطار کے دوران پھلوں کی چاٹ بغیر چینی،  کریم اور دودھ کے کھائی جا سکتی ہے، پھلوں میں تھوڑ ی سی مقدار میں لیموں کا رس بھی شامل کیا جا سکتا ہے ۔

مائع میں سادہ پانی بہترین قرار دیا جاتا ہے جبکہ نمک میں بنا ایک گلاس لیموں پانی بھی پیا جا سکتا ہے۔

شوگر کے مریض رات بھوک لگنے پر ایک روٹی کم مرچ مسالے والے سالن کے ساتھ یا سلاد اور رائتہ کے ساتھ کھا سکتے ہیں۔

[ad_2]

Source link

Updated: اپریل 14, 2021 — 12:31 صبح

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

BFT News © 2022 Frontier Theme