مغربی بنگال الیکشن میں بی جے پی کو شکست دینے والا نوجوان قیدی

[ad_1]

ریاستی انتخابات میں بھارت کی ریاست آسام کے لوگوں کے تحفظ اور حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والے نوجوان اکِھل گگوئی نے جیل سے الیکشن لڑکر مرکز میں برسراقتدار جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شکست دیدی۔

اکِھل گگوئی کے لیے انتخابی مہم ان کی 85 سالہ والدہ پریادا گگوئی نے چلائی اور اپنے قیدی بیٹے کو آسام کی اسمبلی کا ممبر بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق اکِھل گگوئی انڈین ریاست آسام کے ایک مشہور کارکن اور کسان رہنما ہیں۔ وہ اپر آسام میں شیوا ساگر کے حلقے سے اسمبلی انتخابات میں کامیاب ہوئے ہیں۔

شیواساگر اسمبلی کے انتخابات کے دوران وزیرِ اعظم نریندر مودی سے لے کر وزیرِ داخلہ امیت شاہ اور کانگریس رہنما راہل گاندھی تک نے اپنے اپنے امیدواروں کے حق میں انتخابی جلسے منعقد کیے تھے۔

دوسری جانب انڈیا میں شہریت کے متنازع ترمیمی قانون سی اے اے کی سخت مخالفت کے باعث اکِھل گگوئی دسمبر 2019 سے جیل میں ہیں۔ چنانچہ وہ انتخابی مہم کے لیے اس علاقے میں موجود نہیں تھے۔ اس وقت اکِھل گگوئی کی صحت مبینہ طور پر خراب ہے اور وہ عدالتی تحویل میں گوہاٹی میڈیکل کالج اسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔ اس کے باوجود وہ فتح کا پرچم لہرانے میں کامیاب رہے۔

جیل میں موجود اکِھل گگوئی نے آسام کے اسمبلی انتخابات میں اپنے کاغذاتِ نامزدگی بطور آزاد امیدوار جمع کروائے تھے اور وہ حکمران جماعت بی جے پی کی امیدوار سورابھی راجکونوری کو 11 ہزار 875 ووٹوں سے شکست دینے میں کامیاب رہے ہیں۔ شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج 46 سالہ اکِھل گگوئی کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ مانا جا رہا ہے۔

بھارت میں سب سے پہلے شہریت کے ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرے آسام سے ہی شروع ہوئے تھے اور اکِھل گگوئی اِن کا مرکزی چہرہ تھے۔ اُنھیں پولیس نے 12 دسمبر 2019 کو گرفتار کر لیا تھا اور اُن کے خلاف تعزیراتِ ہند کی کئی شقوں اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔

اس کے علاوہ اُن کے خلاف ریاست کے کئی شہروں میں مقدمات درج کیے گئے۔ انڈیا کی نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے) نے بھی اُن کے خلاف دو مقدمات درج کیے ہیں جس کے باعث وہ اب تک ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے ہیں۔

اکِھل گگوئی کی والدہ پرجوش انداز میں کہتی ہیں کہ ’مجھے اپنے بیٹے پر فخر ہے۔ اُس نے سب کچھ آسام اور اس کے لوگوں کے لیے قربان کر دیا۔ میرا بیٹا صحیح کر رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اُنھیں جیل میں ڈالنے کے باوجود شیوا ساگر کے لوگوں نے اُن کے لیے ووٹ کیا۔ ہمارا آسام دوبارہ سونا بنے گا۔‘

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے شیوا ساگر کے ایک ٹیچر منیندر لہون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اکِھل گگوئی کی شیواساگر کے لوگوں سے آخری ملاقات سی اے اے کے خلاف مظاہروں کے دوران ڈیڑھ سال قبل ہی ہوئی تھی۔ جہاں تک شیواساگر سے انتخاب جیتنے کا معاملہ ہے تو وہاں کے لوگوں نے آسام کے نسلی و لسانی مسائل کے حل کے لیے اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’سی اے اے کے نفاذ سے آسامی ذات، زبان اور ہمارے وجود کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ اکِھل نے ایمانداری سے اس متنازع قانون کے خلاف لڑائی لڑی۔ یہاں کے لوگ اس بارے میں جانتے ہیں ورنہ یہاں پر پیسے کی قوت اتنی زیادہ تھی کہ اکِھل ایسی صورتحال میں کبھی بھی نہ جیت پاتے۔‘

اکِھل خود جیل میں تھے اور اُن کی پارٹی اُن کی جیت کے لیے مہم چلائے ہوئے تھی، تو اکِھل کی انتخابی مہم کیسے مختلف تھی؟

اس سوال کے جواب میں منیندر کہتے ہیں کہ ‘وہ لوگ جو اکِھل کے کام سے واقف ہیں، وہ بہت ذہین اور سیاسی طور پر بالغ لوگ ہیں۔ اکِھل طویل عرصے سے شیواساگر کے کسانوں کے مسائل پر آواز اٹھا رہے تھے اس لیے شیواساگر کے لوگوں نے یہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے اُنھیں ووٹ دیا۔‘

منیندر نے کہا کہ ’اس کے علاوہ دوسری سب سے اہم چیز اکِھل کی عمر رسیدہ والدہ تھیں۔ ایک طرح سے وہ لوگوں سے اپنے بیٹے کے لیے انصاف مانگ رہی تھیں۔ آخر کیوں آسامی لوگوں کے حقوق کا مطالبہ کرنے والے کسی شخص کو اتنے طویل عرصے تک جیل میں رکھا جا سکتا ہے؟ یہ سوال ہر آسامی شخص کے ذہن میں تھا اور اب بھی ہے۔ اس لیے جب اکِھل کی والدہ در در جا کر لوگوں سے ملیں تو اس کا لوگوں پر جذباتی اثر ہوا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں نے خود دیکھا ہے کہ اتنی عمر اور بیماریوں کے باوجود اکِھل کی والدہ لوگوں سے ایک عام انسان کی طرح مل رہی تھیں۔ وہ لوگوں سے اپنے بیٹے پر ہونے والے ظلم کے بارے میں بات کیا کرتیں۔ دنیا کی کوئی بھی طاقت ماں سے نہیں جیت سکتی اور شیواساگر کے لوگوں نے اس بات کو ثابت کر دکھایا ہے۔‘

انتخابی مہم کے بارے میں اکِھل گگوئی کی والدہ کہتی ہیں کہ  ’سچ بتاؤں تو مجھے انتخابی مہم نہیں چلانی آتی۔ میں صرف جا کر لوگوں سے ملا کرتی۔ اس وقت کچھ نوجوان میرے ساتھ چلتے۔ ہم اکِھل کی تحریک کے بارے میں لوگوں سے بات کیا کرتے۔ میں ہمیشہ شیواساگر کے لوگوں کی احسان مند رہوں گی۔ یہاں کے لوگوں نے نہ صرف اکِھل کی حمایت کی بلکہ اُن کی تحریک کو بھی درست ثابت کیا۔ اب اکِھل کو یہاں کے لوگوں کے لیے کام کرنا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’میرے پاس یہ سوچنے کا وقت نہیں تھا کہ کون سا لیڈر کیا کہہ رہا ہے۔ میں تقریباً دو ماہ تک لوگوں سے در در جا کر مل رہی تھی۔ میں روز صبح سات بجے گھر سے اپنا کھانا ساتھ باندھ کر نکل جاتی۔ میرے ساتھ رائے جور دل کے نوجوان ہوا کرتے۔ کئی مرتبہ میں رات دیر سے واپس لوٹتی۔ درحقیقت یہ میرے لیے انتخابی مہم کی طرح ہی تھا کیونکہ سوال میرے بیٹے کا تھا۔‘

مزید پڑھیں: ریاستی انتخابات: 3 ریاستوں میں مودی کو شکست، مغربی بنگال ممتا بنرجی کے نام

پریادا کہتی ہیں: ’اکِھل ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکا ہے۔ اگر وہ چاہتا تو اچھی نوکری کر کے اچھی زندگی گزار سکتا تھا مگر اُس نے آسام اور اس کے لوگوں کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی۔ میرے دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں۔ شروع سے ہی میں چاہتی تھی کہ وہ لوگوں کی آواز بنیں۔ اسے اپنی زندگی معاشرے کی خدمت میں بتانی چاہیے۔ میں لوگوں سے انتخابی مہم کے دوران بات کرتی تھی اس لیے مجھے اکِھل کی جیت کا یقین تھا۔ سچ کی ہمیشہ جیت ہوتی ہے۔‘

اسمبلی انتخابات کے اعلان سے چند دن قبل ہی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے شیواساگر میں ایک لاکھ بے زمین لوگوں میں زمین کی لیز تقسیم کی۔ اس وقت کسی نے بھی نہیں سوچا تھا کہ یہ نشست بی جے پی کے ہاتھوں سے چلی جائے گی۔ یہاں وزیرِ داخلہ امیت شاہ نے بھی جلسے کیے اور اپنی حکومت کے ترقیاتی منصوبے عوام کے سامنے رکھے، مگر اکِھل کی والدہ کے سامنے کسی لیڈر کا جادو نہیں چل سکا۔

اپر آسام میں سی اے اے سے متعلق تمام سیاسی واقعات کی کوریج کرنے والے اویک چکرورتی کہتے ہیں کہ ‘ان انتخابات بالخصوص اپر آسام میں یہ لگتا تھا کہ بی جے پی سی اے اے کے باعث کچھ سیٹیں ہار جائے گی مگر شیواساگر کے علاوہ کسی بھی نشست پر ایسا نہیں ہوا۔’

وہ کہتے ہیں کہ ’شیواساگر ایک طویل عرصے سے بائیں بازو کے نظریات کا گڑھ رہا ہے۔ یہاں کے نوجوان ووٹر اس سے بڑی حد تک متاثر ہیں۔ اکِھل گگوئی کو اس سب کا فائدہ ہوا۔ اس کے علاوہ اُن کی والدہ کی انتخابی مہم نے بھی لوگوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ایک مضبوط جمہوریت میں ہم تمام قوت کسی ایک شخص یا جماعت کو نہیں دے سکتے۔ تاہم آسام جتیہ پریشد کی خراب کارکردگی اور سی اے اے کے خلاف مظاہروں سے اکِھل گگوئی کی جماعت رائے جور دل کے جنم لینے سے واضح ہوتا ہے کہ اُنھیں باقی ماندہ نشستوں پر سی اے اے مخالف زیادہ ووٹ نہیں پڑے۔‘

 

[ad_2]

Source link

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

BFT News © 2022 Frontier Theme